کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: پرہیزگاری، توکل (اللہ پر بھروسا) کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ آدمی کو اپنے اسباب میں ورع کا استعمال کرنا چاہیے، تأویل پر انحصار کیے بغیر، اگرچہ اسے یہ اختیار ہو
حدیث نمبر: 720
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْتَرَى رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ عَقَارًا ، فَوَجَدَ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ فِي عَقَارِهِ جَرَّةَ ذَهَبٍ ، فقَالَ لَهُ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ : خُذْ ذَهَبَكَ عَنِّي ، إِنَّمَا اشْتَرَيْتُ مِنْكَ أَرْضًا وَلَمْ أَبْتَعْ مِنْكَ ذَهَبًا ، وَقَالَ الَّذِي بَاعَ الأَرْضَ : إِنَّمَا بِعْتُكَ الأَرْضَ وَمَا فِيهَا ، قَالَ : فَتَحَاكَمَا إِلَى رَجُلٍ ، فقَالَ الَّذِي تَحَاكَمَا إِلَيْهِ : أَلَكُمَا وَلَدٌ ؟ فقَالَ أَحَدُهُمَا : غُلامٌ ، وقَالَ الآخَرُ : جَارِيَةٌ ، فقَالَ : أَنْكِحُوا الْغُلامَ الْجَارِيَةَ ، وَأَنْفِقُوا عَلَى أَنْفُسِهِمَا ، وَتَصَدَّقَا " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” ایک شخص نے دوسرے شخص سے ایک زمین خریدی اس نے جو زمین خریدی تھی اس زمین میں اس نے سونے کا ایک مٹکا پایا، تو اس نے اس شخص سے یہ کہا: جس سے اس نے یہ زمین خریدی تھی کہ تم اپنا یہ سونا مجھ سے لے لو میں نے تم سے زمین خریدی تھی میں نے تم سے سونا نہیں خریدا جس شخص نے زمین فروخت کی تھی اس نے یہ کہا: کہ میں نے تمہیں زمین اور اس میں موجود ساری چیزیں فروخت کر دی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان دونوں نے ایک تیسرے شخص کو اپنا ثالث مقرر کیا، تو جس شخص کو ثالث مقرر کیا تھا اس شخص نے دریافت کیا: کیا تمہاری اولاد ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا: میرا بیٹا ہے دوسرے نے کہا: میری بیٹی ہے اس شخص نے کہا: تم اس لڑکے کا نکاح اس لڑکی کے ساتھ کر دو اور اس (دولت) کو اپنے اوپر بھی خرچ کرو اور صدقہ بھی کرو ۔“