کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: فقر، زہد اور قناعت کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اس فانی اور زائل دنیا سے خالی ہاتھ نکلے، اس سے جس کا وہ حساب دے گا یا جو اس کے گلے میں ہو
حدیث نمبر: 715
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ ، بِالْفُسْطَاطِ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتِ : اشْتَدَّ وَجَعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ سَبْعَةُ دَنَانِيرَ أَوْ تِسْعَةٌ ، فقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، مَا فَعَلَتْ تِلْكَ الذَّهَبُ " ؟ فَقُلْتُ : هِيَ عِنْدِي ، قَالَ : " تَصَدَّقِي بِهَا " ، قَالَتْ : فَشُغِلْتُ بِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، مَا فَعَلَتْ تِلْكَ الذَّهَبُ " ؟ فَقُلْتُ : هِيَ عِنْدِي ، فقَالَ : " ائْتِنِي بِهَا " ، قَالَتْ : فَجِئْتُ بِهَا ، فَوَضَعَهَا فِي كَفِّهِ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا ظَنُّ مُحَمَّدٍ أَنْ لَوْ لَقِيَ اللَّهَ وَهَذِهِ عِنْدَهُ ؟ مَا ظَنُّ مُحَمَّدٍ أَنْ لَوْ لَقِيَ اللَّهَ وَهَذِهِ عِنْدَهُ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف زیادہ ہو گئی آپ کے پاس سات یا شاید نو دینار موجود تھے۔ آپ نے فرمایا: اے عائشہ! تم نے اس سونے کا کیا کیا ہے؟ میں نے عرض کی: وہ میرے پاس ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے صدقہ کر دو، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں مشغولیت کی وجہ سے یہ کام نہ کر سکی پھر آپ نے دریافت کیا: اے عائشہ! تم نے اس سونے کے ساتھ کیا کیا ہے۔ میں نے عرض کی: وہ میرے پاس ہے آپ نے ارشاد فرمایا: اسے میرے پاس لے کے آؤ۔ سیدہ عائشہ کہتی ہیں: میں وہ لے کر آئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی تھیلی میں لیا اور ارشاد فرمایا: ” محمد کے بارے میں کیا گمان کیا جائے گا کہ اگر وہاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو کہ یہ کچھ اس کے پاس ہو، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا گمان کیا جائے گا کہ اگر وہاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو کہ یہ اس کے پاس ہو ۔“