کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: فقر، زہد اور قناعت کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ دنیا سے کنارہ کشی اختیار کی جائے اور اس میں سے اس قدر پر قناعت کی جائے جو مسافر کو اس کے سفر میں قائم رکھے
حدیث نمبر: 706
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ سَلْمَانَ الْخَيْرَ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ عَرَفُوا مِنْهُ بَعْضَ الْجَزَعِ ، قَالُوا : مَا يُجْزِعُكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، وَقَدْ كَانَتْ لَكَ سَابِقَةٌ فِي الْخَيْرِ ، شَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَغَازِيَ حَسَنَةً وَفُتُوحًا عِظَامًا ؟ قَالَ : يُجْزِعُنِي أَنَّ حَبِيبَنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَارَقَنَا عَهِدَ إِلَيْنَا ، قَالَ : " لِيَكْفِ الْيَوْمَ مِنْكُمْ كَزَادِ الرَّاكِبِ " فَهَذَا الَّذِي أَجْزَعَنِي ، فَجُمِعَ مَالُ سَلْمَانَ ، فَكَانَ قِيمَتُهُ خَمْسَةَ عَشَرَ دِينَارًا ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : عَامِرٌ هَذَا : هُوَ عَامِرُ بْنُ عَبْدِ قَيْسٍ وَسَلْمَانُ الْخَيْرُ هُوَ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ .
عامر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: جب سیدنا سلمان الخیر (یعنی سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ) کے انتقال کا وقت قریب آیا، تو لوگوں نے ان پر گھبراہٹ محسوس کی۔ لوگوں نے دریافت کیا: اے ابوعبداللہ! آپ کیوں گھبرا رہے ہیں؟ جبکہ آپ کو بھلائی کی طرف سبقت لے جانے کا شرف حاصل ہے۔ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوات میں شرکت کی ہے اور بڑی فتوحات میں حصہ لیا ہے، تو سیدنا سلمان فارسی نے فرمایا مجھے یہ چیز گھبراہٹ کا شکار کر رہی ہے کہ ہمارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم جب ہم سے جدا ہوئے تھے، تو آپ نے ہم سے یہ عہد لیا تھا آپ نے فرمایا تھا۔ ” تم میں سے کسی شخص کے لئے ایک دن کے لئے اتنی چیز کافی ہے، جو کسی سوار کا زاد سفر ہوتی ہے ۔“ تو یہ چیز مجھے گھبراہٹ کا شکار کر رہی ہے، پھر جب سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا مال جمع کیا گیا، تو اس کی قیمت پندرہ دینار بنتی تھی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عامر نامی راوی عامر بن عبدقیس ہیں، جبکہ سلمان خیر سے مراد سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ہیں۔