کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: فقر، زہد اور قناعت کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ دنیا کے لوگوں کے مال کا جو ان کا احساب ہے، اس کا انجام کیا ہوگا
حدیث نمبر: 701
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَهُوَ غُنْدَرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُطَرِّفًا ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْرَأُ : أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ سورة التكاثر آية 1 ، قَالَ : " يَقُولُ ابْنُ آدَمَ : مَا لِي مَا لِي ، وَإِنَّمَا لَكَ مِنْ مَالِكَ مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ ، أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ " .
طرف اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ یہ آیت تلاوت کر رہے تھے۔ ” کثرت تمہیں غفلت کا شکار کر دے گی ۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کہتا ہے: یہ میرا مال ہے، یہ میرا مال ہے، حالانکہ تمہارا مال وہ ہے، جو کھا کر تم فنا کر دو، یا جسے پہن کر تم پرانا کر دو، یا جسے صدقہ کر کے تم آگے بھیج دو۔