کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: فقر، زہد اور قناعت کا بیان - اس وجہ کا کچھ حصہ ذکر کرنا کہ بعض فقراء بعض مالداروں پر کیوں افضل ہیں
حدیث نمبر: 686
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ خُلَيْدٍ الْعَصَرِيِّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا طَلَعَتْ شَمْسٌ قَطُّ إِلا وَبِجَنْبَتَيْهَا مَلَكَانِ يُنَادِيَانِ : اللَّهُمَّ مَنْ أَنْفَقَ فَأَعْقِبْهُ خَلَفًا ، وَمَنْ أَمْسَكَ فَأَعْقِبْهُ تَلَفًا " .
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب بھی سورج نکلتا ہے، تو اس کے پہلو میں دو فرشتے ہوتے ہیں جو یہ اعلان کرتے ہیں۔ ” اے اللہ! جو شخص (تیری راہ میں) خرچ کرتا ہے، تو اسے اس کے بدلے میں مزید عطا کر اور جو شخص خرچ نہیں کرتا ہے، تو اس کے بدلے میں اس کا نقصان کر دے ۔“