کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خوف اور تقویٰ کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ جب آدمی وعظ کے وقت جذباتی ہو جاتا ہے تو اس کے لیے وہ نفع دیتا ہے
حدیث نمبر: 666
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : " اتَّقُوا النَّارَ " ثُمَّ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ ، ثُمَّ قَالَ : " اتَّقُوا النَّارَ " ، ثُمَّ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ ، حَتَّى رُئِينَا أَنَّهُ يَرَاهَا ثُمَّ قَالَ : " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ طَيْبَةٍ " .
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ جہنم سے بچنے کی کوشش کرو پھر آپ نے منہ پھیر لیا اور چہرے کو بچانے کی کوشش کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ جہنم سے بچنے کی کوشش کرو پھر آپ نے منہ پھیر لیا اور چہرے کو بچانے کی کوشش کی، یہاں تک ہمیں یوں محسوس ہوا کہ آپ اسے دیکھ رہے ہیں پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ” جہنم سے بچنے کی کوشش کرو، خواہ نصف کھجور کے ذریعے ایسا کرو اور اگر تمہیں یہ بھی نہیں ملتی، تو پاکیزہ بات کے ذریعے (جہنم سے بچنے کی کوشش کرو) ۔“
حدیث نمبر: 667
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْمِنْهَالِ الْعَطَّارُ ، بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُنْذِرُكُمُ النَّارَ ، أُنْذِرُكُمُ النَّارَ ، أُنْذِرُكُمُ النَّارَ ، حَتَّى لَوْ كَانَ فِي مَقَامِي هَذَا ، وَهُوَ بِالْكُوفَةِ " سَمِعَهُ أَهْلُ السُّوقِ حَتَّى وَقَعَتْ خَمِيصَةٌ كَانَتْ عَلَى عَاتِقِهِ ، عَلَى رِجْلَيْهِ .
سیدنا نعمان بن بشیر، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” میں تمہیں جہنم سے ڈرا رہا ہوں، میں تمہیں جہنم سے ڈرا رہا ہوں، میں تمہیں جہنم سے ڈرا رہا ہوں ۔“ (سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میری جگہ پر کھڑے ہوئے ہوتے۔ سیدنا نعمان اس وقت کوفہ میں تھے، تو بازار کے رہنے والے لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سن لیتے، یہاں تک کہ (جوش زیادہ ہونے کی وجہ سے) آپ کے کندھے پر موجود چادر آپ کے پاؤں میں گر گئی تھی۔