کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: خوف اور تقویٰ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ خبر قتادہ بن دعامہ نے تنہا بیان کی
حدیث نمبر: 654
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ حَكِيمٍ الأَثْرَمِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا ، وَإِنَّهُ ، قَالَ لِي : إِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ ، وَإِنَّ كُلَّ مَا أَنْحَلْتُ عِبَادِي فَهُوَ لَهُمْ حَلالٌ ، وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ أَتَتْهُمْ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ ، وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمُ الَّذِي أَحْلَلْتُ لَهُمْ ، وَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنْزِلْ بِهِ سُلْطَانًا ، وَإِنَّ اللَّهَ أَتَى أَهْلَ الأَرْضِ قَبْلَ أَنْ يَبْعَثَنِي ، فَمَقَتَهُمْ عَرَبَهُمْ وَعَجَمَهُمْ إِلا بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ، وَإِنَّهُ ، قَالَ لِي : قَدْ أَنْزَلْتُ كِتَابًا لا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ فَاقْرَأْهُ نَائِمًا وَيَقْظَانَ ، وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُخْبِرَ قُرَيْشًا وَإِنِّي قُلْتُ : أَيْ رَبِّ ، إِذًا يَثْلَغُوا رَأْسِي فَيَدَعُوهُ خُبْزَةً وَإِنَّهُ قَالَ لِي : اسْتَخْرِجْهُمْ كَمَا اسْتَخْرَجُوكَ ، وَاغْزُهُمْ يَسْتَغْزُونَكَ ، وَأَنْفِقْ نُنْفِقْ عَلَيْكَ ، وَابْعَثْ جَيْشًا نَبْعَثْ خَمْسَةَ أَمْثَالِهِ ، وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مَنْ عَصَاكَ " .
سیدنا عیاض بن حمار رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ” بیشکاللہ تعالیٰ نے مجھے اس بات کا حکم دیا ہے کہ میں آج تمہیں ان چیزوں کی تعلیم دوں جو علم مجھےاللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے مجھ سے یہ فرمایا ہے: میں نے اپنے تمام بندوں کو مسلمان پیدا کیا ہے اور میں نے اپنے بندوں کو جو چیز بھی عطا کی ہے۔ وہ ان کے لئے حلال ہے۔ شیاطین لوگوں کے پاس آتے ہیں اور انہیں دین کے حوالے سے گمراہ کر دیتے ہیں وہ ان کے لئے ان چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں جو میں نے ان کے لئے حلال قرار دی ہیں اور وہ ان لوگوں کو یہ حکم دیتے ہیں کہ وہ میرے ساتھ شریک کریں جس کے بارے میں میں نے کوئی حکم نازل نہیں کیا ہے۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں)اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث کرنے سے پہلے زمین کی طرف توجہ کی اور تمام اہل عرب اور تمام عجمیوں پر ناراضگی کا اظہار کیا، البتہ اہل کتاب میں سے باقی رہ جانے والوں کا معاملہ مختلف ہے۔ اللہ نے مجھ سے فرمایا: میں نے ایک کتاب نازل کی ہے، جسے پانی دھو نہیں سکے گا تم سونے اور بیداری کی حالت میں اس کی تلاوت کرو۔ اللہ نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں قریش کو یہ بات بتا دوں میں نے عرض کی: اے میرے پروردگار! اس صورت میں وہ میرے سر کو کچل کر اسے پیس کے رکھ دیں گے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم انہیں نکلنے پر مجبور کرو جس طرح انہوں نے تم کو نکالا تھا، اور تم ان سے جنگ کرو جس طرح انہوں نے تمہارے ساتھ جنگ کی تھی اور تم خرچ کرو ہم تم پر خرچ کریں گے اور تم لشکر کو بھیجو ہم اس جیسے پانچ بھیجیں گے اور جو شخص تمہاری اطاعت کرتا ہے اس شخص کے ساتھ مل کر اس شخص کے ساتھ جنگ کرو جو تمہاری نافرمانی کرتا ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 654
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - هو طرف من الذي قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، المعلى بن مهدي روى عنه جمع، وذكره ابن أبي حاتم في «الجرح والتعديل» 8/ 335، فقال: سألت أبي عنه، فقال: شيخ موصلى أدركته، ولم أسمع منه، يحدث أحياناً بالحديث المنكر. وذكره المؤلف في «الثقات» 9/ 182، 183، وقال الإمام الذهبي: «صدوق في نفسه». وحكيم بن الأثرم كذا ورد في الأصل زيادة «بن» بين حكيم والأثرم، والصواب أنه حكيم الأثرم كما ورد في تهذيب الكمال وفروعه، ونقل المزي عن محمد بن يحيى الذهلي قال: قلت لعلي ابن المديني: حكيم الأثرم من هو؟ قال: أعيانا هذا، وفي رواية قال: لا أدري من أين هو. ونقل مغلطاي عن ثقات ابن خلفون قول ابن المديني: حكيم الأثرم لا أدري ابن من هو، وهو ثقة. أما ابن حبان فقد سمى أباه حكيماً، فقال في «الثقات» 6/ 215: حكيم بن حكيم الأثرم يروي عن الحسن وأبي تميمة الهجيمي، عداده في أهل البصرة، روى عنه حماد بن سلمة وعوف الأعرابي. وقال الذهبي في «الكاشف»: وقال ابن حجر في «التقريب»: فيه لين. وباقي رجاله ثقات. أبو شهاب هو موسى بن نافع الحنَّاط، والحسن هو البصري.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 653»