کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خوف اور تقویٰ کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ وہ اپنی ذات سے ان خصلتوں کی جانچ کرے تاکہ ان میں سے بعض کے ارتکاب سے جہنم کا واجب ہونے سے بچے
حدیث نمبر: 653
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْعَلاءُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ ، أَخُو مُطَرِّفٍ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي رَجُلانِ آخَرَانِ أَنَّ مُطَرِّفًا حَدَّثَهُمْ أَنَّ عِيَاضَ بْنَ حِمَارٍ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ : " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا ، إِنَّ كُلَّ مَا أَنْحَلْتُهُ عَبْدِي حَلالٌ ، وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ ، وَإِنَّهُ أَتَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ ، وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ ، فَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنْزِلْ بِهِ سُلْطَانًا ، وَإِنَّ اللَّهَ اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ الأَرْضِ ، فَمَقَتَهُمْ عَرَبَهُمْ وَعَجَمَهُمْ ، غَيْرَ بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ، فقَالَ يَا مُحَمَّدُ : إِنَّمَا بَعَثْتُكَ لأَبْتَلِيَكَ وَأَبْتَلِيَ بِكَ ، وَأُنْزِلَ عَلَيْكَ كِتَابًا لا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ ، تَقْرَؤُهُ يَقْظَانَ وَنَائِمًا ، وَإِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا أَمَرَنِي أَنْ أُخْبِرَ قُرَيْشًا ، فَقُلْتُ : إِذًا يَثْلَغُوا رَأْسِي فَيَتْرُكُوهُ خُبْزَةً ، قَالَ : فَاسْتَخْرِجْهُمْ كَمَا اسْتَخْرَجُوكَ ، وَاغْزُهُمْ يَسْتَغْزُوكَ ، وَأَنْفِقْ يُنْفَقْ عَلَيْكَ ، وَابْعَثْ جَيْشًا نَبْعَثْ خَمْسَةً أَمْثَالَهُمْ ، وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مَنْ عَصَاكَ وَقَالَ : أَصْحَابُ الْجَنَّةِ ثَلاثَةٌ : إِمَامٌ مُقْسِطٌ مُصَدِّقٌ مُوَفَّقٌ ، وَرَجُلٌ رَحِيمٌ رَقِيقُ الْقَلْبِ بِكُلِّ ذِي قُرْبَى وَمُسْلِمٍ ، وَرَجُلٌ عَفِيفٌ فَقِيرٌ مُصَّدِّقٌ وَقَالَ : أَصْحَابُ النَّارِ خَمْسَةٌ : رَجُلٌ جَائِرٌ لا يَخْفَى لَهُ طَمَعٌ وَإِنْ دَقَّ ، وَرَجُلٌ لا يُمْسِي وَلا يُصْبِحُ إِلا وَهُوَ يُخَادِعُكَ عَنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ ، وَالضَّعِيفُ الَّذِينَ هُمْ فِيكُمْ تَبَعٌ لا يَبْغُونَ أَهْلا وَلا مَالا " ، فقَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ أَمِنَ الْمَوَالِي هُوَ ، أَوْ مِنَ الْعَرَبِ ؟ قَالَ : هُوَ التَّابِعَةُ يَكُونُ لِلرَّجُلِ فَيُصِيبُ مِنْ حُرْمَتِهِ سِفَاحًا غَيْرَ نِكَاحٍ وَالشِّنْظِيرُ : الْفَاحِشُ وَذَكَرَ الْبُخْلَ وَالْكَذِبَ " .
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبے کے دوران یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ” بیشکاللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ اس نے مجھے جن چیزوں کا علم دیا ہے اور تم ان سے ناواقف ہو۔ آج میں اس جگہ تمہیں ان چیزوں کی تعلیم دیدوں ۔“ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) ہر وہ چیز جو میں نے اپنے بندے کو عطیے کے طور پر دی ہے وہ حلال ہے اور میں نے اپنے تمام بندوں کو مسلمان پیدا کیا ہے۔ پھر شیاطین ان کے پاس آتے ہیں اور ان کے دین کے حوالے سے انہیں گمراہ کر دیتے ہیں اور ان کے لئے ان چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں جو میں نے ان کے لئے حلال قرار دی ہیں اور انہیں اس بات کا حکم دیتے ہیں کہ وہ کسی کو میرا شریک بنا دیں حالانکہ میں نے اس بارے میں کوئی مضبوط دلیل نازل نہیں کی ہے۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیںاللہ تعالیٰ اہل زمین کی طرف جھانک کر تمام اہل عرب اور عجمیوں پر ناراضگی کا اعلان کرتا ہے۔) صرف اہل کتاب میں سے باقی رہ جانے والے لوگوں کو ناراضگی کا اظہار نہیں کرتا پھراللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے محمد! میں نے تمہیں اس لئے مبعوث کیا ہے، تاکہ میں تمہیں آزمائش میں مبتلا کروں اور تمہاری وجہ سے لوگوں کو آزماؤں اور میں نے تم پر ایک کتاب نازل کی ہے، جسے پانی دھو نہیں سکے گا۔ (یعنی وہ بالکل ختم نہیں ہو گی) بیدار شخص اور سویا ہوا شخص اس کی تلاوت کریں گے۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) مجھےاللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ میں قریش کو یہ بات بتا دوں میں نے عرض کی: اس صورت میں وہ لوگ میرا سر کچل دیں گے اور وہ لوگ اسے پیس دیں گے، تواللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم بھی انہیں نکلنے پر مجبور کرو جس طرح انہوں نے تم کو نکلنے پر مجور کیا تھا، اور تم ان کے ساتھ جنگ کرو جس طرح انہوں نے تمہارے ساتھ جنگ کی تھی اور تم خرچ کرو تم پر خرچ کیا جائے گا اور تم ایک لشکر کو بھیجو ہم اس کے جتنے پانچ گنا بھیج دیں گے اور جو شخص تمہاری فرمانبرداری کرتا ہے اس کے ساتھ مل کر اس شخص کے ساتھ جنگ کرو جو تمہاری نافرمانی کرتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل جنت تین قسم کے ہیں۔ ایسا امام جو عادل ہو تصدیق کرنے والا ہو اور اسے توفیق دی گئی ہو، ایک وہ شخص جو مہربان ہو رقیق القلب ہو، ہر قریبی رشتہ دار ہر مسلمان کے لئے (نرم دل ہو) ایک وہ شخص جو پاک دامن ہو، غریب ہو اور تصدیق کرنے والا ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل جہنم پانچ قسم کے ہیں۔ ” ایسا ظالم شخص جس کا لالچ پوشیدہ نہ ہو اگرچہ وہ بہت ہی باریک ہو ایسا شخص جو صبح شام تمہارے ساتھ تمہاری بیوی اور مال کے بارے میں دھوکا دیتا ہو ایسا کمزور شخص جو تمہارے تابع ہیں وہ لوگ اہل یا مال طلب نہیں کرتے ہیں ۔“ ایک شخص نے ان سے دریافت کیا: اے ابوعبداللہ! کیا یہ لوگ موالی میں سے ہوں گے یا عربوں میں سے ہوں گے، تو انہوں نے جواب دیا: یہ پیروکاروں میں سے ہوں گے۔ یہ اس شخص کے لئے ہو گا، تو یہ اس کی حرمت میں سے گناہ کے طور پر (زنا کا ارتکاب کرے گا) نکاح نہیں کرے گا اور شنظیر کا مطلب فحاشی کرنے والے کو کہتے ہیں: پھر راوی نے بخل اور جھوٹ کا بھی تذکرہ کیا۔