کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خوف اور تقویٰ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگر اللہ کا خوف آدمی پر غالب ہو جائے تو قیامت کے دن اس کے لیے نجات کی امید کی جا سکتی ہے
حدیث نمبر: 650
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ وَرْدَانَ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يُحَدِّثُ عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ رَجُلٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لَمْ يَبْتَئِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا قَطُّ ، قَالَ لِبَنِيهِ عِنْدَ الْمَوْتِ : يَا بَنِيَّ ، أَيَّ أَبٍ كُنْتُ لَكُمْ ؟ قَالُوا : خَيْرَ أَبٍ ، قَالَ : فَإِذَا أَنَا مِتُّ ، فَاحْرَقُونِي واسْحَقُونِي ، فَإِذَا كَانَ فِي يَوْمِ رِيحٍ عَاصِفٍ فَذُرُّونِي ، قَالَ : فَمَاتَ ، فَفُعِلَ بِهِ ذَلِكَ ، فقَالَ لَهُ : كُنْ ، فَكَانَ كَأَسْرَعِ مِنْ طَرْفَةِ الْعَيْنِ ، فقَالَ اللَّهُ : يَا عَبْدِي ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ ؟ فقَالَ : مَخَافَتُكَ أَيْ رَبِّ ، قَالَ : فَمَا تَلافَاهُ أَنْ غُفِرَ لَهُ " قَالَ الْمُعْتَمِرُ : ، قَالَ أَبِي : فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ ، قَالَ : هَكَذَا حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ ، وَزَادَ فِيهِ : " وَذُرُّونِي فِي الْبَحْرِ " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” تم سے پہلے زمانے میں ایک شخص تھا جس نےاللہ تعالیٰ کی بارگاہ کے لئے کوئی بھلائی ذخیرہ نہیں کی تھی۔ اس نے مرتے وقت اپنے بیٹوں سے کہا: اے میرے بیٹو! میں تمہارے لئے کیسا باپ تھا؟ انہوں نے جواب دیا: بہترین باپ تھے۔ اس شخص نے کہا: جب میں مر جاؤں، تو تم مجھے جلا کر مجھے پیس دینا اور جب تیز ہوا چل رہی ہو، تو مجھے اڑا دینا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں وہ شخص فوت ہو گیا۔ اس کے ساتھ ایسا ہی کیا گیا۔اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ہو جاؤ، تو وہ پلک جھپکنے سے بھی پہلے (انسان بن کر کھڑا ہو گیا)اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے میرے بندے تم نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے عرض کیا: اے میرے پروردگار! تیرے خوف کی وجہ سے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:اللہ تعالیٰ نے اسے یہ بدلہ دیا کہ اس کی مغفرت کر دی گئی ۔“ معتمر نامی راوی بیان کرتے ہیں: میرے والد نے یہ بات بیان کی ہے میں نے یہ روایت ابوعثمان نہدی کو سنائی، تو انہوں نے کہا: سلیمان نے یہ حدیث مجھے اسی طرح سنائی تھی تاہم انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کئے تھے: ” تم لوگ مجھے دریا میں ڈال دینا ۔“