کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: خوف اور تقویٰ کا بیان - اس امید کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اس کی مغفرت کرے گا جس پر اللہ کے خوف کی حالت رجاء کی حالت پر غالب ہو
حدیث نمبر: 649
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ فِيمَنْ سَلَفَ مِنَ النَّاسِ رَجُلٌ رَغَسَهُ اللَّهُ مَالا وَوَلَدًا ، فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ ، جَمَعَ بَنِيهِ ، فقَالَ : أَيَّ أَبٍ كُنْتُ لَكُمْ ؟ قَالُوا : خَيْرَ أَبٍ ، فقَالَ : إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا ابْتَأَرَ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا قَطُّ ، وَإِنَّ رَبَّهُ يُعَذِّبُهُ ، فَإِذَا أَنَا مِتُّ فَأَحْرِقُونِي ، ثُمَّ اسْحَقُونِي ، ثُمَّ اذْرُونِي فِي رِيحٍ عَاصِفٍ ، قَالَ اللَّهُ : كُنْ ، فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ ، قَالَ : مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ : مَخَافَتُكَ ، قَالَ : فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنْ يَلْقَاهُ غَيْرَ أَنْ غُفِرَ لَهُ " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” پہلے زمانے کے لوگوں میں سے ایک شخص تھا، جسےاللہ تعالیٰ نے مال اور اولاد میں وسعت عطا کی تھی جب اس کی موت کا وقت قریب آیا، تو اس نے اپنے بچوں کو جمع کیا اور دریافت کیا: میں تمہارے لئے کیسا باپ تھا، تو انہوں نے جواب دیا۔ بہترین باپ تھے، تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں نےاللہ تعالیٰ کی بارگاہ کے لئے کوئی بھلائی ذخیرہ نہیں کی ہے، تو اب اس کا پروردگار اسے عذاب دے گا، تو جب میں مر جاؤں، تو تم مجھے جلا دینا اور پھر مجھے پیس کر تیز چلتی ہوئی ہوا میں اڑا دینا، تواللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم کھڑے ہو جاؤ، تو وہ شخص کھڑا ہو گیا۔اللہ تعالیٰ نے دریافت کیا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے عرض کی: تیرے خوف کی وجہ سے ۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کر دی تھی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 649
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3048): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 648»