کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: خوف اور تقویٰ کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ انبیاء سے نسبت آخرت میں نفع نہیں دیتی اور نہ ہی منسوبین کو فائدہ ہوتا ہے سوائے اللہ کے تقویٰ اور نیک عمل کے
حدیث نمبر: 645
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأْخُذُ رَجُلٌ بِيَدِ أَبِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، يُرِيدُ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، فَيُنَادَى : أَلا إِنَّ الْجَنَّةَ لا يَدْخُلُهَا مُشْرِكٌ ، قَالَ : فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أَبِي ! ، قَالَ : فَيُحَوَّلُ فِي صُورَةٍ قَبِيحَةٍ ، وَرِيحٍ مُنْتِنَةٍ ، فَيَتْرُكُهُ " قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : كَانُوا يَقُولُونَ : إِنَّهُ إِبْرَاهِيمُ ، قَالَ : وَلَمْ يَزِدْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” قیامت کے دن ایک شخص اپنے باپ کا ہاتھ پکڑے گا وہ اسے جنت میں لے جانا چاہے گا، تو پکار کر کہا: جائے گا۔ خبردار! جنت میں کوئی مشرک داخل نہیں ہو گا، تو وہ بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! یہ میرا باپ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تو اس کے باپ کو انتہائی بدصورت اور بدبودار کر دیا جائے گا، تو وہ شخص اسے چھوڑ دے گا ۔“ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: لوگ یہ کہا: کرتے تھے: اس سے مراد سیدنا ابراہیم علیہ السلام (اور ان کے والد) کا معاملہ ہے، تاہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے علاوہ مزید کچھ ارشاد نہیں فرمایا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 645
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى برقم (252). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري. أحمد بن المقدام من شرط البخاري، ومن فوقه على شرطهما. وقد أورده المؤلف برقم (252).
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 644»