کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اللہ پر حسن ظن کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ وہ اپنی حالتوں میں اللہ جل وعلا پر حسن ظن کے ساتھ بھروسہ کرے
حدیث نمبر: 633
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَيَّانُ أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي ، فَلْيَظُنَّ بِي مَا شَاءَ " .
سیدنا واثلہ بن اشقع بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بارے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں۔ اب اس کی مرضی ہے وہ میرے بارے میں جو چاہے گمان کرے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 633
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1663). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، حيان أبو النضر وثقه ابن معين، وقال أبو حاتم: صالح، ولم ترد له ترجمة في "التعجيل" مع أنه من شرطه.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 632»