کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اللہ پر حسن ظن کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ معبود جل وعلا پر حسن ظن آخرت میں اس کے لیے نفع بخش ہو سکتا ہے جس کے لیے اللہ خیر چاہتا ہے
حدیث نمبر: 632
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْرُجُ رَجُلانِ مِنَ النَّارِ ، فَيُعْرَضَانِ عَلَى اللَّهِ ، ثُمَّ يُؤْمَرُ بِهِمَا إِلَى النَّارِ ، فَيَلْتَفِتُ أَحَدُهُمَا فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، مَا كَانَ هَذَا رَجَائِي ، قَالَ : وَمَا كَانَ رَجَاؤُكَ ؟ قَالَ : كَانَ رَجَائِي إِذْ أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا ، أَنْ لا تُعِيدَنِي ، فَيَرْحَمُهُ اللَّهُ فَيُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” دو آدمی جہنم سے نکلیں گے انہیںاللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جائے گا پھر انہیں جہنم کی طرف جانے کا حکم ہو گا، تو ان میں سے ایک مڑ آئے گا اور عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! مجھے اس بات کی امید نہیں تھی۔اللہ تعالیٰ دریافت کرے گا تمہیں کس بات کی امید تھی؟ وہ عرض کرے گا مجھے اس بات کی امید تھی کہ جب، تو نے مجھے اس (جہنم) سے نکال دیا ہے، تو اب، تو مجھے دوبارہ اس میں داخل نہیں کرے گا، تواللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے گا اور اسے جنت میں داخل کر دے گا ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 632
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ظلال الجنة» (853): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله رجال الشيخين غير حماد بن سلمة، فمن رجال مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 631»