کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: توبہ کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ اگر وہ گناہوں سے باز آئے تو اپنے کیے ہوئے گناہوں پر روئے، چاہے وہ ان سے جدا ہو کر ان کے مخالف عمل میں محنت کر رہا ہو
حدیث نمبر: 620
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ النَّخَعِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا ، وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ لِعُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ : قَدْ آنَ لَكَ أَنْ تَزُورَنَا ، فقَالَ : أَقُولُ يَا أُمَّهْ كَمَا قَالَ الأَوَّلُ : زُرْ غِبًّا تَزْدَدْ حُبًّا ، قَالَ : فَقَالَتْ : دَعُونَا مِنْ رَطَانَتِكُمْ هَذِهِ ، قَالَ ابْنُ عُمَيْرٍ : أَخْبِرِينَا بِأَعْجَبِ شَيْءٍ رَأَيْتِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَسَكَتَتْ ثُمَّ قَالَتْ : لَمَّا كَانَ لَيْلَةٌ مِنَ اللَّيَالِي ، قَالَ : " يَا عَائِشَةُ ذَرِينِي أَتَعَبَّدُ اللَّيْلَةَ لِرَبِّي " قُلْتُ : وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّ قُرْبَكَ ، وَأُحِبُّ مَا سَرَّكَ ، قَالَتْ : فَقَامَ فَتَطَهَّرَ ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي ، قَالَتْ : فَلَمْ يَزَلْ يَبْكِي حَتَّى بَلَّ حِجْرَهُ ، قَالَتْ : ثُمَّ بَكَى فَلَمْ يَزَلْ يَبْكِي حَتَّى بَلَّ لِحْيَتَهُ ، قَالَتْ : ثُمَّ بَكَى فَلَمْ يَزَلْ يَبْكِي حَتَّى بَلَّ الأَرْضَ ، فَجَاءَ بِلالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلاةِ ، فَلَمَّا رَآهُ يَبْكِي ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِمَ تَبْكِي وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ وَمَا تَأَخَّرَ ؟ قَالَ : " أَفَلا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا ، لَقَدْ نَزَلَتْ عَلَيَّ اللَّيْلَةَ آيَةٌ ، وَيْلٌ لِمَنْ قَرَأَهَا وَلَمْ يَتَفَكَّرْ فِيهَا إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ سورة البقرة آية 164 الآيَةَ كُلَّهَا " .
عطا بیان کرتے ہیں میں اور عبید بن عمیر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں داخل ہوئے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عبید بن عمیر سے فرمایا: تمہیں اب ہمارے ہاں آنے کا موقع ملا ہے، تو انہوں نے عرض کی: امی جان میں یہ کہوں گا، جیسے پہلے لوگوں میں سے کسی نے کہا: ہے: وقفے کے ساتھ ملا کرو محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اس طرح کی چکنی چپڑی باتیں ہمارے ساتھ نہ کرو۔ ابن عمیر نے عرض کی: آپ ہمیں اس چیز کے بارے میں بتائیے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سب سے حیرت انگیز چیز دیکھی ہو۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خاموش ہو گئیں پھر انہوں نے بتایا: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت ارشاد فرمایا: اے عائشہ! تم مجھے موقع دو تاکہ میں آج رات اپنے پروردگار کی عبادت کروں میں نے عرض کی: اللہ کی قسم! میں آپ کے ساتھ کو پسند کرتی ہوں اور میں اس چیز کو بھی پسند کرتی ہوں جو آپ کو اچھی لگے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے اچھی طرح وضو کیا پھر آپ کھڑے ہو کر نوافل ادا کرنے لگے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹیم رونے لگے، یہاں تک کہ آپ کی آنکھ کا سوراخ گیلا ہو گیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر آپ رونے لگے اور مسلسل روتے رہے، یہاں تک کہ آپ کی داڑھی بھیگ گئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر آپ روتے رہے، پھر اتنی دیر تک روتے رہے کہ زمین بھیگ گئی۔ پھر بلال آئے اور آپ کو (فجر کی) نماز کے لئے بلایا جب انہوں نے آپ کو روتے ہوئے دیکھا، تو عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ جبکہاللہ تعالیٰ نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ (ذب) کی مغفرت کر دی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ آج رات مجھ پر ایک آیت نازل ہوئی ہے۔ اس شخص کے لئے بربادی ہے، جو اس کی تلاوت کرے اور اس میں غور و فکر نہ کرے۔ (وہ آیت یہ ہے) ” آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں “ یہ مکمل آیت ہے۔