کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: توبہ کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ وہ اپنے تمام اسباب میں توبہ کو لازم پکڑے
حدیث نمبر: 619
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ بِنَسَا ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ : " يَا عِبَادِي ، إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِي ، وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا ، فَلا تَظَّالَمُوا ، يَا عِبَادِي ، إِنَّكُمْ تُخْطِئُونَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ، وَأَنَا الَّذِي أَغْفِرُ الذُّنُوبَ وَلا أُبَالِي " . فَذَكَرَهُ بِطُولِهِ وَقَالَ فِي آخِرِهِ : وَكَانَ أَبُو إِدْرِيسَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ جَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سےاللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” اے میرے بندو! میں نے اپنی ذات کے لئے ظلم کو حرام قرار دیا ہے اور میں نے اسے تمہارے درمیان بھی حرام قرار دیا ہے، تو تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو، اے میرے بندو! بیشک تم رات دن خطائیں کرتے ہو اور میں وہ ہوں جو گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہوں اور میں اس کی پرواہ نہیں کرتا ۔“
اس کے بعد راوی نے طویل حدیث ذکر کی ہے، جس کے آخر میں انہوں نے یہ بات بیان کی ہے۔ ابوادریس نامی راوی جب اس حدیث کو بیان کرتے تھے، تو وہ گھٹنوں کے بل جھک جایا کرتے تھے۔
اس کے بعد راوی نے طویل حدیث ذکر کی ہے، جس کے آخر میں انہوں نے یہ بات بیان کی ہے۔ ابوادریس نامی راوی جب اس حدیث کو بیان کرتے تھے، تو وہ گھٹنوں کے بل جھک جایا کرتے تھے۔