کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: تنہائی کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ تنہائی اختیار کرنے والا جو اپنی بکریوں کے ساتھ ہو اور اللہ کی عبادت کرے، اسی وقت ہمارے بیان کردہ ثواب کا مستحق ہوتا ہے جب وہ اپنی زبان اور ہاتھ سے لوگوں کو ایذا نہ دے
حدیث نمبر: 606
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ ، بِبَغْدَادَ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ فقَالَ : " رَجُلٌ جَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ " ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَعْبُدُ اللَّهَ ، وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: وہ شخص جو اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال کے ہمراہ جہاد کرے، اس نے دریافت کیا: پھر کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ مومن جو کسی گھاٹی میں رہتے ہوئے،اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے۔