کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: تنہائی کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ عبادت میں تنہائی اختیار کرنا اللہ کے راستے میں جہاد کے بعد فضیلت میں ہے
حدیث نمبر: 605
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا ، حَدَّثَهُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " أَلا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ ؟ إِنَّ خَيْرَ النَّاسِ رَجُلٌ يُمْسِكُ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَأُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَتْلُوهُ ؟ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي غَنَمِهِ ، يُؤَدِّي حَقَّ اللَّهِ فِيهَا ، وَأُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ ، رَجُلٌ يُسْأَلُ بِاللَّهِ وَلا يُعْطِي بِهِ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” کیا تمہیں سب سے بہتر شخص کے بارے میں بتاؤں؟ سب سے بہتر شخص وہ ہے، جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑ کر (جہاد کے لئے جاتا ہے) میں تمہیں اس کے بعد والے شخص کے بارے میں بتاتا ہوں یہ وہ شخص ہے، جو الگ تھلگ اپنی بکریوں میں رہتا ہے اور ان کے بارے میںاللہ تعالیٰ کے حق (یعنی زکوۃ) کو ادا کرتا ہے اور میں تمہیں سب سے برے شخص کے بارے میں بتاتا ہوں۔ یہ وہ شخص ہے، جس سےاللہ تعالیٰ کے نام پر مانگا جائے اور وہ نہیں دیتا ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 605
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» -أيضا-. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير حرملة، فمن رجال مسلم. بكير هو ابن عبد الله بن الأشج.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 604»