کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: فصل چھینکنے والے کی دعا - اس دو آدمیوں کی حالت کا ذکر جنہوں نے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چھینکا
حدیث نمبر: 602
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَلَسَ رَجُلانِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا أَشْرَفُ مِنَ الآخَرِ ، فَعَطَسَ الشَّرِيفُ ، فَلَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ ، وَعَطَسَ الآخَرُ فَحَمِدَ اللَّهَ ، فَشَمَّتَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَطَسْتُ فَلَمْ تُشَمِّتْنِي ، وَعَطَسَ هَذَا فَشَمَّتَّهُ ؟ ! ، فقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذَا ذَكَرَ اللَّهَ ، فَذَكَرْتُهُ ، وَأَنْتَ نَسِيتَ فَنَسِيتُكَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: دو آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک دوسرے سے معزز حیثیت کا مالک تھا۔ معزز آدمی کو چھینک آئی، تو اس نےاللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کی۔ دوسرے شخص کو چھینک آئی، تو اس نےاللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھینک کا جواب دیا۔ اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے چھینک آئی تھی، تو آپ نے مجھے، تو جواب نہیں دیا۔ اس شخص کو چھینک آئی ہے، تو آپ نے اسے جواب دیدیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس شخص نےاللہ تعالیٰ کا ذکر کیا تھا، تو میں نے اس کا ذکر کیا اور تم بھول گئے تھے تو میں بھی تمہیں بھول گیا تھا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 602
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «المشكاة» (4734 / التحقيق الثاني). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير عبد الرحمن بن إسحاق فهو صدوق من رجال مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 601»