کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: فصل چھینکنے والے کی دعا - اس بات کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ چھینکنے والے کو دعا نہ دے اگر اس نے اللہ کی حمد نہ کی
حدیث نمبر: 601
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : عَطَسَ رَجُلانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا أَوْ قَالَ : فَسَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتِ الآخَرَ ، فَقِيلَ لَهُ : رَجُلانِ عَطَسَا ، فَشَمَّتَّ أَحَدَهُمَا وَتَرَكْتَ الآخَرَ ؟ قَالَ : " إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ ، وَإِنَّ هَذَا لَمْ يَحْمَدْهُ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دو آدمیوں کو چھینک آئی۔ آپ نے ان میں سے ایک کو جواب دیا: (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) اور آپ نے دوسرے شخص کو جواب نہیں دیا۔ آپ کی خدمت میں عرض کی گئی: دو آدمیوں کو چھینک آئی تھی۔ آپ نے ان میں سے ایک کو جواب دیا ہے اور دوسرے کو نہیں دیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس نےاللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی تھی اور اس نے اس کی حمد بیان نہیں کی۔