کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: فصل چھینکنے والے کی دعا - اس بات کا ذکر کہ چھینکنے والے کو دعا نہ دینا جائز ہے اگر اس نے اللہ جل وعلا کی حمد نہ کی
حدیث نمبر: 600
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، وَجَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، قَالا : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : عَطَسَ رَجُلانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَشَمَّتَ أَوْ فَسَمَّتَّ أَحَدَهُمَا ، وَتَرَكَ الآخَرَ ، قَالَ : " إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ ، وَإِنَّ هَذَا لَمْ يَحْمَدْهُ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دو آدمیوں کو چھینک آئی، تو آپ نے ان میں سے ایک کو چھینک کا جواب دیا: اور دوسرے کو نہیں دیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اس شخص نےاللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی ہے اور اس شخص نےاللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کی ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 600
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح الأدب المفرد» (729): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 599»