کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: فصل چھینکنے والے کی دعا - اس بات کا ذکر کہ چھینکنے والا اس شخص کو کیا جواب دے جو اسے ہمارے بیان کردہ طریقے سے دعا دے
حدیث نمبر: 599
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ يَسَافٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ فِي غَزَاةٍ ، فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ ، فقَالَ : السَّلامُ عَلَيْكُمْ ، فقَالَ سَالِمٌ : السَّلامُ عَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ ، فَوَجَدَ الرَّجُلُ فِي نَفْسِهِ ، فقَالَ لَهُ سَالِمٌ : كَأَنَّكَ وَجَدْتَ فِي نَفْسِكَ ؟ فقَالَ : مَا كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ تَذْكُرَ أُمِّي بِخَيْرٍ وَلا بِشَرٍّ ، فقَالَ سَالِمٌ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي سَفَرٍ فَعَطَسَ رَجُلٌ ، فقَالَ : السَّلامُ عَلَيْكُمْ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ ، إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ : الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ ، أَوْ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، وَلْيَقُلْ لَهُ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، وَلْيَقُلْ هُوَ : يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ " .
ہلال بن یساف بیان کرتے ہیں: میں سالم بن عبید کے ہمراہ ایک جنگ میں شریک ہوا۔ حاضرین میں ایک صاحب کو چھینک آ گئی، تو انہوں نے کہا: السلام علیکم، تو سالم نے کہا: تم پر بھی سلام ہو اور تمہاری والدہ پر بھی سلام ہو، اس آدمی کو یہ بہت برا لگا۔ سالم نے اس سے کہا: تمہیں شاید یہ بات بری لگی ہے۔ وہ بولا: مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میری والدہ کا تذکرہ کیا جائے۔ خواہ بھلائی کے ساتھ کیا جائے یا برائی کے ساتھ کیا جائے، تو سالم نے کہا: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں شریک تھے۔ ایک صاحب کو چھینک آ گئی، تو انہوں نے کہا: السلام علیکم کہا: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر بھی سلام ہو اور تمہاری والدہ پر بھی ہو؟ جب کسی شخص کو چھینک آئے، تو اسے الحمدالله على كل حال کہنا چاہئے یا الحمدلله رب العلمین کہنا چاہئے اور دوسرا شخص اس کے جواب میں يرحمك الله کہے اور وہ شخص اسے یہ کہے یغفرالله لكم (اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے)