کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: فصل چھینکنے والے کی دعا - اس بات کا ذکر کہ چھینکنے والے کو کیا کہنا چاہیے جب وہ چھینکنے پر اللہ کی حمد کرے
حدیث نمبر: 598
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ ، وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ ، فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَرُدَّ مَا اسْتَطَاعَ ، وَلا يَقُلْ : هَاوْ ، فَإِنَّهُ إِذَا قَالَ : هَاوْ ، ضَحِكَ مِنْهُ الشَّيْطَانُ ، فَإِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ ، فقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ فَحَقٌّ عَلَى مَنْ سَمِعَهُ أَنْ يَقُولَ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ " لَمْ أَسْمَعْ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ " فَحَقٌّ " ، قَالَهُ الشَّيْخُ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” بیشکاللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمالی کو ناپسند کرتا ہے، جبکہ کسی شخص کو جمائی آئے، تو وہ جہاں تک ہو سکے اسے روکنے کی کوشش کرے اور ” ہاؤ “ نہ کہے، کیونکہ جب وہ ” ہاؤ “ کہتا ہے، تو شیطان اس پر ہنستا ہے اور جب کسی شخص کو چھینک آئے، تو وہ الحمدللہ کہے اور جو اس کو حمد کہتے ہوئے سنے اس پر لازم ہے وہ یرحمک اللہ کہے ۔“
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے محمد بن اسحاق نامی راوی کی زبانی (روایت کے الفاظ میں) لفظ ” حق “ (تو یہ بات لازم ہے) نہیں سنا ہے یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے محمد بن اسحاق نامی راوی کی زبانی (روایت کے الفاظ میں) لفظ ” حق “ (تو یہ بات لازم ہے) نہیں سنا ہے یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔