کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: راستے پر بیٹھنے کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کی تصدیق کرتی ہے
حدیث نمبر: 596
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَذَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَنْ تَجْلِسُوا بِأَفْنِيَةِ الصُّعُدَاتِ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لا نَسْتَطِيعُ ذَلِكَ وَلا نُطِيقُهُ ، قَالَ : " إِمَّا لا فَأَدُّوا حَقَّهَا " قَالُوا : وَمَا حَقُّهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " رَدُّ التَّحِيَّةِ ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ إِذَا حَمِدَ اللَّهَ ، وَغَضُّ الْبَصَرِ ، وَإِرْشَادُ السَّبِيلِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ تم لوگ گھروں کے تھڑوں پر بیٹھو۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم تو اس کی استطاعت نہیں رکھتے اور ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے (یعنی ہم ایسا کرنے پر مجبور ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر ایسا ہے، تو پھر تم اس کا حق ادا کرو۔ لوگوں نے دریافت کیا۔ اس کا حق کیا ہے؟ یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلام کا جواب دینا، چھینکنے والا جب اللہ کی حمد بیان کرے، تو اسے جواب دینا، نگاہ کو جھکا کر رکھنا اور راستے کی طرف رہنمائی کرنا۔