کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: راستے پر بیٹھنے کا بیان -
حدیث نمبر: 595
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ فِي الطُّرُقَاتِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَنَا مِنْ مَجْلِسِنَا بُدٌّ نَتَحَدَّثُ فِيهَا ، قَالَ : " فَإِذَا أَبَيْتُمْ إِلا الْمَجْلِسَ ، فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ " ، قَالُوا : مَا حَقُّ الطَّرِيقِ ؟ قَالَ : " غَضُّ الْبَصَرِ ، وَكُفُّ الأَذَى ، وَرَدُّ السَّلامِ ، وَالأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارے لئے اس طرح بیٹھے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔ ہم اس طرح بیٹھ کر آپس میں بات چیت کر لیتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم بیٹھنے پر اصرار کر رہے ہو، تو راستے کو اس کا حق دو۔ لوگوں نے دریافت کیا: راستے کا حق کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نگاہ کو جھکا کر رکھنا، تکلیف دہ چیز کو روک کر رکھنا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 595
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2501)، «جلباب المرأة» (ص 77 / الطبعة الجديدة): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين، أبو خيثمة: هو زهير بن حرب، وأبو عامر: هو العقدي، وزهير بن محمد: هو التميمي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 594»