کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: دوستی اور بیٹھک (ہم نشینی) کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر اس فعل سے منع کیا گیا
حدیث نمبر: 584
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا ، فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ " قَالَ أَبُو صَالِحٍ : فَقُلْتُ لابْنِ عُمَرَ : فَأَرْبَعَةٌ ؟ قَالَ : لا يَضُرُّكَ .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” دو آدمی اپنے (تیسرے) ساتھی کو چھوڑ کر سرگوشی میں بات نہ کریں، کیونکہ یہ چیز اسے غمگین کر دے گی ۔“ ابوصالح نامی راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: اگر چار آدمی ہوں؟ تو انہوں نے فرمایا پھر تمہیں کوئی نقصان نہیں ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 584
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» -أيضا-. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري، رجاله ثقات رجال الشيخين غير مسدد، فمن رجال البخاري.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 583»