کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: دوستی اور بیٹھک (ہم نشینی) کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنے مسلم بھائی کا دل اس طرح جیتے جو کتاب اور سنت سے منع نہ ہو
حدیث نمبر: 578
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلا قَامَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : أَيْنَ أَبِي ؟ قَالَ : " فِي النَّارِ " فَلَمَّا قَفَّى دَعَاهُ ، فقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ فِي النَّارِ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا۔ اس نے دریافت کیا: میرے والد کہاں ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جہنم میں، جب وہ مڑ کر واپس گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوایا اور ارشاد فرمایا: میرا باپ اور تمہارا باپ جہنم میں ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 578
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (1/ 132 - 133). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير حماد بن سلمة فمن رجال مسلم. عفان: هو ابن مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 577»