کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: دوستی اور بیٹھک (ہم نشینی) کا بیان - اللہ جل وعلا کے سایہ میں اللہ کے لیے محبت کرنے والوں کے سایہ کا ذکر کہ قیامت کے دن اللہ ہمیں اپنے فضل و کرم سے ان میں شامل کرے
حدیث نمبر: 574
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي الْحُبَابِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلالِي ؟ الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي ، يَوْمَ لا ظِلَّ إِلا ظِلِّي " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے جلال کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے لوگ کہاں ہیں؟ آج میں انہیں اپنا سایہ رحمت عطا کروں گا۔ ایک ایسے دن میں، جب میرے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 574
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (4/ 45): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين، أبو الحباب هو سعيد بن يسار المدني.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 573»