کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: دوستی اور بیٹھک (ہم نشینی) کا بیان - قیامت کے دن لوگوں کے غم اور خوف کے وقت اللہ کے لیے محبت کرنے والوں کی حالت کا ذکر
حدیث نمبر: 573
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ عِبَادًا لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ ، يَغْبِطُهُمُ الأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ ، قِيلَ : مَنْ هُمْ لَعَلَّنَا نُحِبُّهُمْ ؟ قَالَ : هُمْ قَوْمٌ تَحَابُّوا بِنُورِ اللَّهِ مِنْ غَيْرِ أَرْحَامٍ وَلا انْتِسَابٍ ، وُجُوهُهُمْ نُورٌ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ ، لا يَخَافُونَ إِذَا خَافَ النَّاسُ ، وَلا يَحْزَنُونَ إِذَا حَزِنَ النَّاسُ " ، ثُمَّ قَرَأَ : أَلا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ سورة يونس آية 62 .
سیدنا ابوہریرہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” بیشکاللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے کچھ بندے ایسے بھی ہیں، جو نبی نہیں ہیں، لیکن انبیاء اور شہداء ان پر رشک کرتے ہیں۔ دریافت کیا گیا: وہ کون لوگ ہیں؟ (ہمیں بھی اس بارے میں بتایا جائے) تاکہ ہم ان سے محبت رکھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جو کسی رشتے داری یا کسی اور نسبت کے بغیراللہ تعالیٰ کی رضا کی وجہ سے ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں۔ ان کے چہرے نور والے ہوں گے اور یہ نور کے بنے ہوئے منبروں پر ہوں گے جب لوگ خوف زدہ ہوں گے اس وقت انہیں کوئی خوف نہیں ہو گا، جب لوگ غمگین ہوں گے اس وقت انہیں کوئی غم نہیں ہو گا پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی: ” خبردار بیشک اللہ کے دوستوں کو نہ کوئی خوف ہے اور نہ ہی وہ لوگ غمگین ہوں گے ۔“