کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: دوستی اور بیٹھک (ہم نشینی) کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ اس خبر کا کوئی اصل نہیں ہے
حدیث نمبر: 571
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ ، كِتَابَةً ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ مَرَّ رَجُلٌ ، فقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّ هَذَا الرَّجُلَ ، قَالَ : " هَلْ أَعْلَمْتَهُ ذَاكَ ؟ " ، قَالَ : لا ، قَالَ : " قُمْ أَعْلِمْهُ " ، فَقَامَ إِلَيْهِ ، فقَالَ : يَا هَذَا ، وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّكَ ، قَالَ : أَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَهُ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ ایک شخص وہاں سے گزرا حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: یا رسول اللہ! میں اس شخص سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے؟ اس نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اٹھو اور اسے یہ بتاؤ، تو وہ شخص اٹھ کر اس کے پاس گیا اور بولا: اے صاحب! اللہ کی قسم! میں آپ سے محبت رکھتا ہوں، تو ان صاحب نے جواب دیا: جس ذات کی خاطر آپ مجھ سے محبت رکھتے ہیں وہ ذات آپ سے بھی محبت رکھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 571
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3253). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن لغيره، علي بن الحسين: قال أبو حاتم: ضعيف الحديث، وقال النسائي: ليس به بأس، وذكره المؤلف في "ثقاته"، وقد توبع، وباقي رجاله على شرط الصحيح.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 570»