کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: دوستی اور بیٹھک (ہم نشینی) کا بیان - اس ممانعت کا ذکر کہ آدمی اپنے مسلم بھائی کی بیوی کو خراب کرے یا اس کے غلاموں کو اس کے خلاف بھڑکائے
حدیث نمبر: 568
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ خَبَّثَ عَبْدًا عَلَى أَهْلِهِ ، فَلَيْسَ مِنَّا ، وَمَنْ أَفْسَدَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا ، فَلَيْسَ مِنَّا " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جو شخص کسی دوسرے شخص کو اس کی بیوی کے حوالے سے دھوکا دے، وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جو شخص کسی عورت کو اس کے شوہر کے حوالے خلاف کر دے، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 568
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (324)، «صحيح أبي داود» (1890). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي على شرط مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 567/م2»