کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: دوستی اور بیٹھک (ہم نشینی) کا بیان - اس خبر کا ذکر جس کی وجہ سے بعض معطلہ نے اہل حدیث پر طعن کیا کہ وہ اس کے معنی کے مطابق توفیق حاصل کرنے سے محروم رہے
حدیث نمبر: 565
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، وَهُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ ؟ وَأُقِيمَتِ الصَّلاةُ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاتَهُ ، قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ ؟ " قَالَ : هَا أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنَّهَا قَائِمَةٌ فَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ " ، قَالَ : مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ عَمَلٍ غَيْرَ أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " ، قَالَ : وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ مُحَمَّدٌ ، فقَالَ : " إِنْ يَعِشْ هَذَا ، فَلا يُدْرِكُهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " زَادَ هُدْبَةُ : قَالَ أَنَسٌ : فَنَحْنُ نُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا الْخَبَرُ مِنَ الأَلْفَاظِ الَّتِي أُطْلِقَتْ بِتَعْيِينِ خِطَابٍ مُرَادُهُ التَّحْذِيرُ ، وَذَاكَ أَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ تَحْذِيرَ النَّاسِ عَنِ الرُّكُونِ إِلَى هَذِهِ الدُّنْيَا ، بِتَعْرِيفِهِمُ الشَّيْءَ الَّذِي يَكُونُ بِخَلَدِهِمْ تَقَبُّلُ حَقِيقَتِهِ مِنْ قُرْبِ السَّاعَةِ عَلَيْهِمْ ، دُونَ اعْتِمَادِهِمْ عَلَى مَا يَسْمَعُونَ .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! قیامت کب قائم ہو گی؟ اسی دوران نماز کھڑی ہو گئی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی، تو آپ نے دریافت کیا: قیامت کے بارے میں دریافت کرنے والا شخص کہاں ہے؟ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں یہاں ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے تو قائم ہو ہی جانا ہے، تم نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے؟ اس نے عرض کی: میں نے اس کے لئے زیادہ عمل کی صورت میں تیاری نہیں کی ہے، البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اس کے ساتھ ہو گے، جس سے تم محبت رکھتے ہو۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کا ایک شخص موجود تھا جس کا نام محمد تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر یہ زندہ رہ گیا، تو اس کے بوڑھا ہونے سے پہلے قیامت قائم ہو جائے گی۔ یہاں ہدبہ نامی راوی نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتے ہیں۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): یہ روایت ان الفاظ سے تعلق رکھتی ہے، جس میں خطاب کی تعین مطلق رکھی گئی ہے، اور اس سے مراد منع کرنا ہے وہ یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس چیز سے منع کرنا مراد لیا ہے کہ وہ اس دنیا کی طرف راغب ہوں اور ان کے سامنے ایسی چیز کی تعریف بیان کی ہے، جو ان کے ہمیشہ رہنے کے حوالے سے ہے کہ اس کی حقیقت اس بات کو قبول کرتی ہے کہ ان لوگوں کے لئے قیامت کا وقت قریب ہے، اور انہیں اس چیز پر اعتماد نہیں کرنا چاہئے، جو وہ سن رہے ہیں۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): یہ روایت ان الفاظ سے تعلق رکھتی ہے، جس میں خطاب کی تعین مطلق رکھی گئی ہے، اور اس سے مراد منع کرنا ہے وہ یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس چیز سے منع کرنا مراد لیا ہے کہ وہ اس دنیا کی طرف راغب ہوں اور ان کے سامنے ایسی چیز کی تعریف بیان کی ہے، جو ان کے ہمیشہ رہنے کے حوالے سے ہے کہ اس کی حقیقت اس بات کو قبول کرتی ہے کہ ان لوگوں کے لئے قیامت کا وقت قریب ہے، اور انہیں اس چیز پر اعتماد نہیں کرنا چاہئے، جو وہ سن رہے ہیں۔