کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: دوستی اور بیٹھک (ہم نشینی) کا بیان - اس امید کا ذکر کہ آدمی جنت میں اس کے ساتھ ہوگا جس سے وہ دنیا میں محبت کرتا تھا
حدیث نمبر: 562
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : يَا مُحَمَّدُ بِصَوْتٍ لَهُ جَهْوَرِيٍّ ، فَقُلْنَا : وَيْلَكَ اخْفِضْ مِنْ صَوْتِكَ ، فَإِنَّكَ قَدْ نُهِيتَ عَنْ هَذَا ، قَالَ : لا وَاللَّهِ حَتَّى أَسْمَعَهُ ، فقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ : " هَاؤُمُ " ، فقَالَ : أَرَأَيْتَ رَجُلا أَحَبَّ قَوْمًا ، وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ ؟ قَالَ : " ذَلِكَ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَاؤُمُ " أَرَادَ بِهِ رَفَعَ الصَّوْتِ فَوْقَ صَوْتِ الأَعْرَابِيِّ ، لِئَلا يَأْثَمَ الأَعْرَابِيُّ بِرَفْعِ صَوْتِهِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَهُ الشَّيْخُ .
سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے بلند آواز میں آپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو۔ تم اپنی آواز کو پست رکھو، کیونکہ تمہیں اس بات سے منع کیا گیا ہے: وہ بولا: نہیں۔ اللہ کی قسم! جب تک میں انہیں سنا نہیں لیتا (میں اپنی آواز نیچی نہیں کروں گا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اسے اشارہ کیا کہ آگے آ جاؤ۔ اس شخص نے کہا: ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو کسی قوم سے محبت رکھتا ہے، لیکن ان کے ساتھ شامل نہیں ہو پاتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جن سے محبت رکھتا ہے۔
روایت کے یہ الفاظ ” ھاؤم “ اس سے مراد یہ ہے کہ دیہاتی کی آواز سے زیادہ بلند آواز میں یہ لفظ کہا: تاکہ وہ دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اپنی آواز بلند کرنے کے حوالے سے گنہگار نہ ہو۔ یہ بات شیخ سے بیان کی ہے۔
روایت کے یہ الفاظ ” ھاؤم “ اس سے مراد یہ ہے کہ دیہاتی کی آواز سے زیادہ بلند آواز میں یہ لفظ کہا: تاکہ وہ دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اپنی آواز بلند کرنے کے حوالے سے گنہگار نہ ہو۔ یہ بات شیخ سے بیان کی ہے۔