کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: دوستی اور بیٹھک (ہم نشینی) کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ صالحین اور دین داروں کی مجلس اختیار کرنی چاہیے نہ کہ ان کے مخالفین کی جو مسلمانوں میں سے ہیں
حدیث نمبر: 561
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَمَثَلُ جَلِيسِ السُّوءِ ، كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ ، فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً ، وَنَافِخُ الْكِيرِ ، إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا خَبِيثَةً " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى إِبَاحَةِ الْمُقَايِسَاتِ فِي الدِّينِ .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” نیک ہم نشین اور برے ہم نشین کی مثال اسی طرح ہے، جیسے کسی نے مشک اٹھایا ہوا ہو اور کوئی بھٹی جھونکتا ہو، تو مشک اٹھانے والے شخص سے، یا تو تم اسے خرید لو گے یا پھر تم اس سے خوشبو حاصل کر لو گے اور بھٹی جھونکنے والا شخص یا تو تمہارے کپڑے کو جلا دے گا یا پھر تمہیں اس سے بد بو آئے گی ۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ دینی معاملات میں قیاس کرنا مباح ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 561
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3214): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين، بريد هو ابن عبد الله بن أبي بردة بن أبي موسى الأشعري.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 562»