کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: دوستی اور بیٹھک (ہم نشینی) کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے صالحین اور ان جیسوں سے برکت حاصل کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 558
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَازِلا بِالْجِعْرَانَةِ ، بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ، وَمَعَهُ بِلالٌ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ ، فقَالَ : أَلا تُنْجِزُ لِي يَا مُحَمَّدُ مَا وَعَدْتَنِي ؟ فقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبْشِرْ ، فقَالَ لَهُ الأَعْرَابِيُّ : لَقَدْ أَكْثَرْتَ عَلَيَّ مِنَ الْبُشْرَى ، قَالَ : فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي مُوسَى ، وَبِلالٍ كَهَيْئَةِ الْغَضْبَانِ ، فقَالَ : " إِنَّ هَذَا قَدْ رَدَّ الْبُشْرَى ، فَاقْبَلا أَنْتُمَا " فَقَالا : قَبْلِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ ، ثُمَّ قَالَ لَهُمَا : " اشْرَبَا مِنْهُ ، وَأَفْرِغَا عَلَى وُجُوهِكُمَا أَوْ نُحُورِكُمَا " فَأَخَذَا الْقَدَحَ فَفَعَلا مَا أَمَرَهُمَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَادَتْنَا أُمُّ سَلَمَةَ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ أَنْ أَفْضِلا لأُمِّكُمَا فِي إِنَائِكُمَا ، فَأَفْضَلا لَهَا مِنْهُ طَائِفَةً .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا۔ آپ مکہ اور مدینہ کے درمیان ” جعرانہ “ کے مقام پر نیچے کی طرف اتر رہے تھے۔ آپ کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ایک دیہاتی شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا اس نے عرض کی: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے جو میرے ساتھ وعدہ کیا تھا وہ پورا نہیں کریں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم خوشخبری قبول کرو دیہاتی نے آپ کی خدمت میں عرض کی: آپ پہلے ہی مجھے بہت ساری خوشخبریاں دے چکے ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غصے کے عالم میں متوجہ ہوئے اور فرمایا: اس شخص نے خوشخبری کو مسترد کر دیا ہے، تو تم دونوں اسے قبول کر لو، تو ان دونوں صاحبان نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم اسے قبول کرتے ہیں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگوایا جس میں پانی موجود تھا۔ پھر آپ نے ان دونوں سے فرمایا: تم دونوں اس میں سے پی لو اور اسے اپنے سینے اور چہرے کے اوپر بھی انڈیل لو، ان دونوں حضرات نے پیالہ لیا اور ایسا ہی کیا، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت کی تھی۔ پردے کے پیچھے سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں پکار کر کہا: اپنے برتن میں سے اپنی والدہ کے لئے بھی کچھ بچا لینا، تو ان دونوں نے اس میں سے تھوڑا سا پانی) ان کے لئے بھی بچا لیا ۔“