کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: دوستی اور بیٹھک (ہم نشینی) کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ اس خبر کا خطاب خاص لوگوں کے لیے تھا نہ کہ عام کے لیے
حدیث نمبر: 557
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلا يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ ؟ قَالَ : " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو کسی قوم سے محبت رکھتا ہے، لیکن ان کے ساتھ شامل نہیں ہو پاتا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” آدمی اس کے ساتھ ہو گا، جس سے وہ محبت رکھتا ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 557
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج فقه السيرة» (200): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري، رجاله ثقات رجال الشيخين غير مسدد، فمن رجال البخاري.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 558»