کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نرمی کا بیان - مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا ذکر جو انہوں نے ان لوگوں کے لیے مانگی جو مسلمانوں کے معاملات میں نرمی کرتے ہیں اور اس کے برخلاف عمل کرنے والوں پر بددعا کی
حدیث نمبر: 553
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا عَنْ شَيْءٍ ، فَقَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ فِي بَيْتِي هَذَا : " اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَشَقَّ عَلَيْهِمْ ، فَاشْقُقْ عَلَيْهِ ، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمَرِ أُمَّتِي شَيْئًا ، فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ " .
عبدالرحمان بن شماسہ بیان کرتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں کوئی چیز مانگنے کے لئے حاضر ہوا، تو سیدہ عائشہ نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس گھر میں یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” اے اللہ! جو شخص میری اُمت کے کسی بھی معاملے کا نگران بنے اور وہ ان لوگوں پر سختی سے کام لے، تو اس پر سختی کرنا اور جو شخص میری اُمت کے کسی معاملے کا نگران بنے اور وہ ان کے ساتھ نرمی سے کام لے، تو اس پر نرمی کرنا ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 553
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3456): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 554»