کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: فصل نیکی اور احسان - بیان کہ مسلمانوں کے راستے سے نقصان دور کرنے والے کے لیے مغفرت کی امید ہے
حدیث نمبر: 536
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ فَأَخَذَهُ ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ ، فَغَفَرَ لَهُ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : اللَّهُ جَلَّ وَعَلا أَجَلُّ مِنْ أَنْ يَشْكُرَ عَبِيدَهُ ، إِذْ هُوَ الْبَادِئُ بِالإحْسَانِ إِلَيْهِمْ ، وَالْمُتَفَضِّلُ بِإتْمَامِهَا عَلَيْهِمْ ، وَلَكِنَّ رِضَا اللَّهِ جَلَّ وَعَلا بِعَمَلِ الْعَبْدِ عَنْهُ يَكُونُ شُكْرًا مِنَ اللَّهِ ، جَلَّ وَعَلا عَلَى ذَلِكَ الْفِعْلِ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” ایک شخص ایک مرتبہ ایک راستے میں جا رہا تھا اسے راستے میں کانٹوں کی ایک شاخ نظر آئی اس نے اسے لیا (اور ایک طرف کر دیا)، تواللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کو قبول کیا اور اس کی مغفرت کر دی ۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:)اللہ تعالیٰ کی ذات اس بات سے بلند و برتر ہے کہ وہ اپنے بندے کا شکر ادا کرے، کیونکہ وہ اپنے بندوں کے ساتھ بھلائی کر کے ان کے ساتھ آغاز کرتا ہے، اور پھر اسے ان پر مکمل کر کے ان پر فضل کرتا ہے، لیکناللہ تعالیٰ کا اپنے بندے کے عمل سے راضی ہو جانا، یہاللہ تعالیٰ کی طرف سے شکر شمار ہو گا، جو بندے کے اس فعل پر ہو گا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 536
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح. * [عَنْ مَالِكٍ] قال الشيخ: وعنه البخاري (652 و 2472)، ومسلم (8/ 34)، والترمذي (1959)، وأحمد (2/ 533) كلهم من طريق مالك، وهذا في «الموطأ». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين، وسُمَي: هو مولى أبي بكر عبد الرحمن المخزومي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 537»