کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: فصل نیکی اور احسان - بیان کہ انسان کو چاہیے کہ کمزوروں کی طرف رجوع کرے اور ان کے امور انجام دے، چاہے یہ کسی اور کے لیے بھی ممکن ہو
حدیث نمبر: 535
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْجُعْفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أُنْزِلَتْ : عَبَسَ وَتَوَلَّى سورة عبس آية 1 فِي ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الأَعْمَى ، قَالَتْ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَقُولُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَرْشِدْنِي ، قَالَتْ : وَعِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ عُظَمَاءِ الْمُشْرِكِينَ ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرِضُ عَنْهُ وَيُقْبِلُ عَلَى الآخَرِ ، فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا فُلانُ أَتَرَى بِمَا أَقُولُ بَأْسًا " فَيَقُولُ : لا ، فَنَزَلَتْ عَبَسَ وَتَوَلَّى سورة عبس آية 1 .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: یہ آیت ” اس نے ماتھے پر بل ڈال لیا اور منہ پھیر لیا “ یہ سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا کے بارے میں نازل ہوئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے: اے اللہ کے نبی! آپ میری رہنمائی کیجئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشرکین کے بڑوں میں سے ایک فرد بیٹھا ہوا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے منہ پھیرتے رہے اور اس کی طرف متوجہ رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فلاں! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں جو بات کہہ رہا ہوں اس میں کوئی حرج ہے، تو وہ جواب دیتا: جی نہیں، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ” اس نے ماتھے پر بل ڈال لئے اور منہ پھیر لیا)
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 535
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - "صحيح سنن الترمذي" (3566). * [عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْجُعْفِيُّ] قال الشيخ: هو الملقب بـ «بِمُشْكُدَانة»، وهو ثقة من شيوخ مسلم، ومن فوقه ثقات من رجال الشيخين؛ فالسند صحيح، والحسن بن سفيان حافظ ثقة. وأخرجه الترمذي (3328) وغيره من طريق آخر عن هشام بن عروة به، وقال: «حسن غريب»، وأُعِلَّ بالإرسال. وله شاهد من حديث أنس، رواه أبو يعلى (3123) بسند صحيح. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير عبد الله بن عمر الجعفي فهو من رجال مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 536»