کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: فصل نیکی اور احسان - بیان کہ دنیا میں جو شخص مسلمانوں کے امور حل کرتا ہے، اللہ تعالیٰ ان کے امور بھی پورے کرتا ہے
حدیث نمبر: 533
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عَقِيلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لا يَظْلِمُهُ وَلا يُسْلِمُهُ ، مَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً ، فَرَّجَ اللَّهُ بِهَا عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا ، سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
سالم اپنے والد (سيدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ وہ اس پر ظلم نہیں کرتا وہ اسے اس کے حال پر نہیں چھوڑتا۔ جو شخص اپنے بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی کرتا ہے، جو شخص کسی مسلمان کی تکلیف کو دور کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کی پریشانیوں کو دور کرے گا اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہےاللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 533
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (504): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين، ليث: هو ابن سعد، وعُقيل -بضم العين- هو ابن خالد بن عَقيل -بفتح العين - الأيلي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 534»