کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: فصل نیکی اور احسان - بیان کہ انسان کو چاہیے کہ لوگوں کے امور حل کرنے والے کے پاس سفارش کرے
حدیث نمبر: 531
أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ أَبُو عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي أُوتَى فَأُسْأَلُ ، وَيُطْلَبُ إِلَيَّ الْحَاجَةُ ، وَأَنْتُمْ عِنْدِي ، فَاشْفَعُوا ، فَلْتُؤْجَرُوا ، وَيَقْضِي اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا أَحَبَّ أَوْ مَا شَاءَ " ، قَالَ الشَّيْخُ : ابْنُ أَبِي بُرْدَةَ فِي هَذَا الْخَبَرِ أَرَادَ بِهِ ابْنَ ابْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : وَهُوَ بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” بیشک مجھے (مال و دولت) عطا کیا گیا ہے اس لئے مجھ سے مانگا جاتا ہے اور مجھ سے حاجت طلب کی جاتی ہے اور تم لوگ میرے پاس ہوتے ہو، تم لوگ سفارش کیا کرو تمہیں اس کا اجر ملے گا۔اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے زبانی جو چیز پسند کرتا ہے اور جو چاہتا ہے فیصلہ سنا دیتا ہے ۔“ شیخ کہتے ہیں: ابن ابوبردہ نامی راوی، جو اس روایت میں مذکور ہیں اس سے مراد ابن ابوبردہ کے صاحبزادے ہیں۔ امام ابوحاتم فرماتے ہیں یہ برید بن عبداللہ بن ابوبردہ بن سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ہیں۔