کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: فصل نیکی اور احسان - اس خبر کا ذکر جس سے آدمی اپنے احسان اور اپنی برائیوں کو پہچانتا ہے
حدیث نمبر: 526
أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ لِي أَنْ أَعْلَمَ إِذَا أَحْسَنْتُ وَإِذَا أَسَأْتُ ؟ قَالَ : " إِذَا سَمِعْتَ جِيرَانَكَ يَقُولُونَ : قَدْ أَحْسَنْتَ ، فَقَدْ أَحْسَنْتَ ، وَإِذَا سَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ : قَدْ أَسَأْتَ ، فَقَدْ أَسَأْتَ " .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! میں یہ بات کیسے جان سکتا ہوں کہ میں نے اچھائی کی ہے یا میں نے برائی کی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے پڑوسی کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ تم نے اچھائی کی ہے، تو اس کا مطلب ہے تم نے اچھائی کی ہے اور جب تم ان لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ تم نے برائی کی ہے، تو اس کا مطلب ہے تم نے برائی کی ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 526
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - المصدر نفسه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله رجال الشيخين غير محمد بن عبد الأعلى فمن رجال مسلم، وهو مكرر ما قبله.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 527»