کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: پڑوسی سے متعلق بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اس شخص کو جو اپنے مسلم بھائی کی عیب کو چھپائے، اس بچی کے اجر کے برابر اجر دیتا ہے جو قبر میں زندہ دفن کی گئی ہو
حدیث نمبر: 517
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَشِيطٍ الْوَعْلانِيُّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ دُخَيْنٍ أَبِي الْهَيْثَمِ ، كَاتِبِ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ : إِنَّ لَنَا جِيرَانًا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ ، وَأَنَا دَاعٍ الشُّرْطَ لِيَأْخُذُوهُمْ ، فقَالَ عُقْبَةُ : وَيْحَكَ ، لا تَفْعَلْ ، وَلَكِنْ عِظْهُمْ وَهَدِّدْهُمْ ، قَالَ : إِنِّي نَهَيْتُهُمْ ، فَلَمْ يَنْتَهُوا ، وَإِنِّي دَاعٍ الشُّرْطَ لِيَأْخُذُوهُمْ ، فقَالَ عُقْبَةُ : وَيْحَكَ ، لا تَفْعَلْ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ سَتَرَ عَوْرَةَ مُؤْمِنٍ ، فَكَأَنَّمَا اسْتَحْيَى مَوْءُودَةً فِي قَبْرِهَا " .
ابوہیثم دخین، یہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے دست رات تھے، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمارے کچھ پڑوسی شراب پیتے ہیں۔ میں کوتوال کو بلانا چاہتا ہوں تاکہ وہ انہیں پکڑ لے، تو سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارا ستیاناس ہو، تم ایسا نہ کرو، تم انہیں واضح نصیحت کرو، تم انہیں ڈراؤ، اس نے کہا: میں نے انہیں منع کیا ہے، لیکن وہ بعض نہیں آئے۔ اب میں کوتوال کو بلاؤں گا تاکہ وہ انہیں پکڑ لے، تو سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو، تم ایسا نہ کرو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے سنا ہے: ” جو شخص کسی مومن کی پردہ پوشی کرتا ہے، تو اس کی مثال اسی طرح ہے، جیسے وہ زندہ گاڑ دی جانے والی بچی کو اس کی قبر میں سے بچا لیتا ہے
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 517
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف مضطرب الإسناد - «الضعيفة» (1265)، والمرفوع ثابت دون قوله: «في قبرها» - «الضعيفة» (2808). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط دُخَيْن كنيتُهُ أبو الهيثم عند المؤلف، وعند الفسوي في تاريخه: 2/ 505، والدولابي في "الكنى" 2/ 156، وقد وصفوه بأنه كاتب عقبة، وأنه سمع منه وهو ثقة من رجال التهذيب إلا أنهم كنوه أبا ليلى. وباقي رجاله ثقات.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 518»