کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: سلام کو عام کرنا اور کھانا کھلانے کا بیان - اس بات کا بیان کہ کھانا کھلانا اور سلام کو عام کرنا دینِ اسلام کا حصہ ہے۔
حدیث نمبر: 505
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَيُّ الإِسْلامِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : " تُطْعِمُ الطَّعَامَ ، وَتَقْرَأُ السَّلامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ ، وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ " .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔ کون سا اسلام زیادہ بہتر ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کھانا کھلاؤ اور جسے تم جانتے ہو اور جسے نہیں جانتے اسے سلام کرو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 505
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح الأدب المفرد» (790): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين، أبو الخير: هو مرثد بن عبد الله اليزني.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 506»