کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: سلام کو عام کرنا اور کھانا کھلانے کا بیان - اس بات کا بیان کہ اگر اہلِ کتاب مسلمان کو سلام کریں تو جواب کیسے دینا چاہیے۔
حدیث نمبر: 503
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ يَهُودِيًّا سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَصْحَابِهِ ، فقَالَ : السَّامُ عَلَيْكُمْ ، فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَدْرُونَ مَا قَالَ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، سَلَّمَ عَلَيْنَا ، قَالَ : " لا ، إِنَّمَا ، قَالَ : السَّامُ عَلَيْكُمْ ، أَيْ : تُسَامُونَ دِينَكُمْ ، فَإِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ، فَقُولُوا : وَعَلَيْكَ " .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک یہودی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو سلام کرتے ہوئے السام علیک (آپ لوگوں کو موت آئے) کہا: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دریافت کیا: کیا تم یہ بات جانتے ہو اس نے کیا کہا: ہے۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں! اس نے ہمیں سلام کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ اس نے یہ کہا: ہے السام علیک یعنی تمہارا دین کمزور ہو، تو جب اہل کتاب میں سے کوئی شخص تمہیں (اس طرح سے) سلام کرے، تو تم یہ کہو و علیک اور تم پر بھی ایسا ہی ہو ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 503
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (1276): م مختصر. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين، فإن يزيد بن زريع سمع من سعيد بن أبي عروبة قديماً قبل الاختلاط.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 503»