کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سلام کو عام کرنا اور کھانا کھلانے کا بیان - اہلِ ذمہ کو سلام کا جواب دینے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 502
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ إِنَّمَا يَقُولُ أَحَدُهُمُ : السَّامُ عَلَيْكَ ، فَقُلْ وَعَلَيْكَ " .
عبداللہ بن دینار بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” یہودی جب تم لوگوں کو سلام کرتے ہیں، تو ان میں سے ایک شخص یہ کہتا ہے: السلام علیک (یعنی تمہیں موت آئے)، تو تم یہ کہو: وعلیک (تمہیں بھی آئے)۔