کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: سلام کو عام کرنا اور کھانا کھلانے کا بیان - اس بات کا بیان کہ جب مسلمان اپنے گھر والوں کے پاس داخل ہوتے وقت سلام کرے تو اگر وہ مر جائے تو اس کے لیے جنت کی ضمانت ہے، اور اگر زندہ رہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے کفایت اور رزق کی ضمانت دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 499
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ بِصَيْدَا ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلاثَةٌ كُلُّهُمْ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ ، إِنْ عَاشَ رُزِقَ وَكُفِيَ ، وَإِنْ مَاتَ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ : مَنْ دَخَلَ بَيْتَهُ فَسَلَّمَ ، فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ ، وَمَنْ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ ، وَمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ " قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لَمْ يَطْعَمْ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً مِنْ طَيِّبَاتِ الدُّنْيَا شَيْئًا غَيْرَ الْحَسْوِ عِنْدَ إِفْطَارِهِ .
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” تین لوگوں کی ضمانتاللہ تعالیٰ کے ذمے ہے کہ اگر وہ زندہ رہے، تو انہیں رزق دیا جائے گا اور ان کی کفایت کی جائے گی اور اگر وہ فوت ہو جائیں، تواللہ تعالیٰ انہیں، جنت میں داخل کرے گا، جو شخص اپنے گھر میں داخل ہو کر سلام کرے، تو وہ شخصاللہ تعالیٰ کے ذمے ہے اور جو شخص نکل کر مسجد کی طرف جائے، تو وہاللہ تعالیٰ کے ذمے ہے اور جو شخص اللہ کی راہ میں (جہاد کرنے کے لئے) نکلے وہاللہ تعالیٰ کے ذمے ہے ۔“
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: محمد بن معافی نے اٹھارہ سال تک دنیا کی پاکیزہ چیزوں میں سے کوئی چیز نہیں کھائی، وہ افطار کے وقت شوربا وغیرہ پی لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 499
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2253)، «المشكاة» (727). * [ثَمَانِيَة عَشْرَةَ سَنَةً] قال الناشر: كذا في الطبعتين والصواب - لغة - «ثماني عشرة سنة» فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط عثمان بن أبي العاتكة هو الأزدي ضعفوه في رويته عن علي بن يزيد الألهاني، وأما روايته عن غيره فهو مقارب يكتب حديثه للاعتبار، وقد توبع عليه كما يأتي فالحديث صحيح.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 499»