کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: عفو (درگزر) کا بیان - اس بات کا ذکر کہ انسان کے لیے پسندیدہ ہے کہ جو شخص اس پر اعتراض کرے یا اسے تکلیف پہنچائے اس سے اپنے لیے انتقام نہ لے۔
حدیث نمبر: 488
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ بِعُكْبَرَا ، أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ضَرَبَ خَادِمًا قَطُّ ، وَلا ضَرَبَ امْرَأَةً لَهُ قَطُّ ، وَلا ضَرَبَ بِيَدِهِ شَيْئًا قَطُّ ، إِلا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَلا نِيلَ مِنْهُ شَيْءٌ قَطُّ ، فَيَنْتَقِمُهُ مِنْ صَاحِبِهِ إِلا أَنْ يَكُونَ لِلَّهِ فَإِنْ كَانَ لِلَّهِ ، انْتَقَمَ لَهُ ، وَلا عَرَضَ لَهُ أَمْرَانِ ، إِلا أَخَذَ بِالَّذِي هُوَ أَيْسَرُ ، حَتَّى يَكُونَ إِثْمًا ، فَإِذَا كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی خادم کو مارتے ہوئے نہیں دیکھا۔ نہ ہی آپ نے کبھی اپنی کسی اہلیہ کو مارا، نہ ہی آپ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے کسی چیز کو کبھی مارا، البتہ آپ اللہ کی راہ میں جہاد کے دوران (دشمنوں کو مارتے تھے) اور جب بھی آپ کے ساتھ کوئی زیادتی کی گئی، تو آپ نے اس زیادتی کرنے والے سے انتظام نہیں لیا، البتہ اگراللہ تعالیٰ کے لئے (انتقام لینا ہو، تو وہ لیا ہے)، کیونکہ اگر کوئی معاملہاللہ تعالیٰ کے لئے ہوتا تھا، تو آپ اس کا انتقام لیتے تھے اور جب بھی آپ کے سامنے دو قسم کی صورت حال پیش آئی، تو آپ نے ان میں سے اس صورت حال کو اختیار کیا جو زیادہ آسمان تھی۔ بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتی، تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہتے تھے ۔“