کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: عفو (درگزر) کا بیان - اس بات کا ذکر کہ بندے پر لازم ہے کہ معاف کرنے کا رویہ اپنائے اور برائی کا بدلہ برائی سے نہ دے۔
حدیث نمبر: 487
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ ، أُصِيبَ مِنَ الأَنْصَارِ أَرْبَعَةٌ وَسَبْعُونَ ، وَمِنْهُمْ سِتَّةٌ فِيهِمْ حَمْزَةُ ، فَمَثَّلُوا بِهِمْ فَقَالَتِ الأَنْصَارُ : لَئِنْ أَصَبْنَا مِنْهُمْ يَوْمًا لَنُرْبِيَنَّ عَلَيْهِمْ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ ، أَنْزَلَ اللَّهُ : وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرينَ سورة النحل آية 126 َ ، فقَالَ رَجُلٌ : لا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُفُّوا عَنِ الْقَوْمِ غَيْرَ أَرْبَعَةٍ " .
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ احد کے دن انصار کے 74 آدمی شہید ہوئے اور ان میں سے چھ آدمی شہید ہوئے جن میں سے ایک سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ان (کافر) لوگوں نے ان کی لاشوں کی بے حرمتی کی تو انصار نے کہا: اگر کسی دن ہمیں ان پر غلبہ حاصل ہوا، تو ہم بھی انہیں پورا بدلہ دیں گے۔ جب فتح مکہ کا موقع آیا، تواللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ” اگر تم سزا دینا چاہتے ہو، تو اس کی مانند سزا دو جو سلوک تمہارے ساتھ کیا گیا تھا، اور اگر تم صبر سے کام لو، تو یہ صبر کرنے والوں کے لئے زیادہ بہتر ہے ۔“ ایک شخص نے کہا: آج کے بعد قریش بالکل نہیں رہیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: چار لوگوں کے علاوہ اور کسی کو قتل نہ کرنا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 487
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الضعيفة» تحت حديث (550). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن من أجل الربيع بن أنس، فقد وصفه الحافظ في "التقريب" بأنه صدوق له أوهام.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 487»