کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: حسنِ اخلاق کا بیان - اس وضاحت کا ذکر کہ جو شخص دنیا میں اچھے اخلاق کا حامل ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب بندوں میں سے ہوگا۔
حدیث نمبر: 486
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو النَّيْسَابُورِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَأَنَّ عَلَى رُؤُوسِنَا الرَّخَمَ ، مَا يَتَكَلَّمُ مِنَّا مُتَكَلِّمٌ ، إِذْ جَاءَهُ نَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفْتِنَا فِي كَذَا ، أَفْتِنَا فِي كَذَا ، فقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ وَضَعَ عَنْكُمُ الْحَرَجَ ، إِلا امْرَأً اقْتَرَضَ مِنْ عِرْضِ أَخِيهِ فَذَاكَ الَّذِي حَرِجَ وَهَلَكَ " قَالُوا : أَفَنَتَدَاوَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلا أَنْزَلَ لَهُ دَوَاءً ، غَيْرَ دَاءٍ وَاحِدٍ " ، قَالُوا : وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْهَرَمُ " ، قَالُوا : فَأَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا " .
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ” ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے ہمارے سروں پر گھونسلے ہیں۔ ہم میں سے کوئی بھی شخص کلام نہیں کرتا تھا اس دوران کچھ دیہاتی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ ہمیں اس مسئلے کے بارے میں فتوی دیجئے۔ آپ ہمیں اس مسئلے کے بارے میں فتوی دیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو!اللہ تعالیٰ نے تم سے حرج کو اٹھا لیا ہے۔ ماسوائے اس شخص کے، جو اپنے بھائی کی عزت کو خراب کرنے کی کوشش کرے۔ یہ وہ شخص ہے، جو گناہ کا ارتکاب کرے گا اور ہلاکت کا شکار ہو جائے گا۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم دوا استعمال کر سکتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں!اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری نازل کی ہے اس کے لئے دوا بھی نازل کی ہے۔ صرف ایک بیماری کا معاملہ مختلف ہے۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ کون سی؟ آپ نے فرمایا: بڑھاپا لوگوں نے عرض کی:اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون شخص زیادہ محبوب ہے؟ یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں میں زیادہ محبوب وہ شخص ہے، جس کے اخلاق اچھے ہوں گے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 486
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (432)، «غاية المرام» (292)، «صحيح أبي داود» (1759). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، على شرط مسلم غير صحابيه أسامة بن شريك، وهو صحابي يعد من أهل الكوفة، وهو من بني ثعلبة بن يربوع، لا يعرف عنه راوٍ غير زياد بن علاقة. عيسى بن يونس هو ابن أبي إسحاق.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 486»