کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: حسنِ اخلاق کا بیان - اس وضاحت کا ذکر کہ جس شخص کا اخلاق اچھا ہوگا، قیامت کے دن اس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب بیٹھنے کا مقام ہوگا۔
حدیث نمبر: 485
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَاسِمُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي مَجْلِسٍ : " أَلا أُخْبِرُكُمْ بِأَحَبِّكُمْ إِلَيَّ ، وَأَقْرَبِكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ " ثَلاثَ مَرَّاتٍ يَقُولُهَا ، قُلْنَا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " أَحْسَنُكُمْ أَخْلاقًا " .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک محفل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” کیا میں تمہیں ان لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ جو تم میں سے میرے سب سے زیادہ محبوب ہیں اور قیامت کے دن میرے سب سے زیادہ قریب بیٹھے ہوں گے۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ہم نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جس کے اخلاق زیادہ اچھے ہیں ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 485
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «الصحيحة» (791). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، محمد بن عبد الله بن عمرو، وثقه المؤلف، قاسم بن أبي شيبة: هو قاسم بن يحيى بن عطاء الهلالي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 485»